بیول بھڈانہ ۔ انسان کا اصل حسن اور سرمایہ ء حیات ’ علم‘ ہے۔علم ہی کی
بدولت انسان نے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اہل علم کی محنت کا نتیجہ ہے کہ
ہمارا آج گذشتہ کل سے بہت بہتر ہے اور ہم پرُ امید ہیں کہ انشاء اللہ ہماری
یہ نوجوان نسل علم وحکمت کی مزید منازل طے کرتے ہوئے مستقبل کو مزید
تابناک بنائے گی۔
حاجی محمد عارف صدر او پی ایل نے چوہدری ضیافت حسین اور راجہ لیاقت علی کے ہمراہ گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ نے کا دورہ کیا جس میں محکمہ تعلیم کا نعرہ:تعلیم سب کیلئے ؛آئیں دیکھیں ہم فروغ تعلیم کیلئے کس قدر کوشاں ہیں کا جائزہ لیا
دنیا کی دیگر اقوام کی طرح پاکستانیوں میں بھی بحثیت قوم جہاں بے شمار خوبیاں ہیں وہیں چند ایک ایسی کمزوریاں ہیں جن کی بدولت ہمیں کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ’’ تحقیق کا فقدان‘‘ انہی خامیوں میں سے ایک اہم ہے۔ ریسرچ یا تحقیق کا فقدان ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جب ہم من گھڑت اور سنی سنائی باتوں پر محض اس لئے یقین کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں تحقیق کی عادت نہیں۔ماضی میں ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہت تشویشناک ہے ان میں اساتذہ کی کمی ، عمارت کی بد حالی، نامناسب تعلیمی ماحول اور طالبعلموں کے لئے سہولتوں کی عدم دستیابی کا دور دورہ ہے معاشرے میں ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کی جانب سے سرکاری اداروں خصوصا تعلیمی اداروں کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھی سرکاری سکولوں کے حوالے سے ان موضوعات کی تشہیر کی جاتی ہے جس سے سرکاری تعلیمی اداروں کے بارے میں منفی رویہ قائم ہونے میں آسانی ہو لیکن ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہوتے ہیں اب تعمیری پہلووں سے صرف نظر کرنا اور منفی پہلووں کو اجاگر کرنا یقیناًناانصافی ہے تصویر کے دونوں کے رخ دیکھ کر اپنی رائے قائم کی جائے تو یہ زیادہ مفید ہو گا۔
سرکاری سکول کے ۷۳ فیصد اساتذہ نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ دوسری طرف نجی شعبہ تعلیم میں بی اے قابلیت رکھنے والے اساتذہ کی تعداد ۶۳ فیصد ہے۔ نجی شعبہ میں پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت کا بھی خاطر خواہ انتظام نہیں۔ ٹیوشن کا رجحان بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت نجی اداروں میں زیادہ ہے جس کی وجہ وہ سکول انتظامیہ ہے جو اپنے ہی بچوں کو سکول ٹائم کے بعد ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ گورنمنٹ سیکٹر کے بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں۔کثیر الجماعت معلمی کے حوالے سے بھی نجی شعبہ آگے ہے جس کی وجہ ان کے پاس کلاس رومز کی کمی ہے اس وجہ سے انہیں ایک ہی وقت میں ایک ہی کمرے میں ایک سے زائد کلاسوں کو بٹھا کر پڑھانا پڑتا ہے گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں میں بلڈنگ (کشادہ کمرے) مفت کتابیں و تعلیم، کھیل کا میدان اور تربیت یافتہ عملہ موجود جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی اکثریت میں یہ تمام سہولیات ناپید ہیں۔
چندعشرے پہلے گورنمنٹ کے سکولوں میں اجارہ داری قائم تھی، بچوں کی تعداد بھی کم تھی اور اساتذہ بھی پڑھانے سے جی چراتے تھے لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں تمام سرکاری سکول ٹیچرز کی ہر تین ماہ بعد ٹرینگ ہوتی ہے جس میں اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ کیاجاتا ہے۔ اب سرکاری سکولوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا تقرر کیا جا رہا ہے جن میں سے اکثریت یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل ہیں ان کی انڈکشن ٹریننگ پر بڑی تعداد میں رقم خرچ کی جاتی ہے اساتذہ کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بجٹ کے علاوہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے جس کی بدولت نوجوان طبقے میں اس شعبہ کو اختیار کرنے کا خاص جذبہ نظر آتا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام سخت کیا کا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ عملے کی بدولت معاشرے میں موجود اس اثر کو زائل کیا جا سکتا ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت نا گفتہ بہ ہونے کی وجہ سے ان میں پڑھائی نہیں ہوتی اور لوگ بھاری فیسیں ادا کر کے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ پنجاب کا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ صوبے میں تعلیمی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھالنے میں مصروف عمل ہے سکولوں میں آئی ٹی لیبزاور ای بکس کا اجراء اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اگرچہ حکومت نظام تعلیم اور ملک میں خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنے کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں بات کرنے کا مقصد خدانخواستہ نجی شعبہ کی تحقیر نہیں بلکہ سرکاری سکولوں میں پائے جانے والے مثبت پہلووں کے بارے میں عوام میں موجود ابہام کو دور کرنا ہے۔ لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ من گھڑت اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے سرکاری سکولوں کے بارے میں خود سے تحقیق کر لی جائے
کیونکہ اب وہاں کے حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں تعلیمی شعبہ میں حکومت اربوں روپے کے فنڈز لگا کر عوام کا سرکاری سکولوں سے اٹھا ہوا اعتماد بحال کروا کے چاہتی ہے کہ وہ سکولوں میں آئیں اور دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔
کہ حالیہ حکومت فروغ تعلیم کے لئے کس حد تک کوشاں ہیں ؟
لیکن بدقسمتی کہ ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔
گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کا دورہ
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں اور حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی مفت تعلیم کی سہولت سے فائدہ حاصل کریں۔ ان خیالات کا اظہار حاجی محمد عارف صدر او پی ایل نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھڈانہ میں محکمہ تعلیم کا نعرہ:تعلیم سب کیلئے ؛آئیں دیکھیں ہم فروغ تعلیم کیلئے کس قدر کوشاں ہیں کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ حاجی محمد عارف نے اپنے خطاب میں سکول ہیڈ ماسٹر جہانگیر افضل ہاشمی اور سٹاف کی انتھک محنت کو سراہا اور تعلیمی میدان میں سکول کی بہتر کارکردگی کی تعریف کی۔ معروف سماجی ،شخصیت نے تعلیم کے مقاصداور دورِ حاضر کے مسائل پر گفتگو کی ۔ ہیڈ ماسٹر جہانگیر افضل نے اپنے خطاب میں تعلیم ‘ کھیل اور ادبی میدان میں سکول کی کارکردگی بیان کی اور والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کرائیں۔ ہمارے پاس معیاری بلڈنگ، اچھا گراونڈ، لائبریری ،سائنس لیب ، کمپیوٹر لیب اور براڈ بینڈ کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں ۔ نرسری کے بچوں کے لئے کڈز روم‘ کھلونے اور جھولے لگائے گئے ہیں۔ پرائمری ‘ مڈل اور ہائی حصہ کے لئے الگ الگ سائنس میتھ ٹیچرز دستیاب ہیں ۔تقریب کے اختتام پر حاجی محمد عارف نے اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبا کو انعامات انعامات بھی دیئے ۔مفصل حسین شاہ ( میانی ڈھیری) ۔۔۔۔ جماعت نہم گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کو ایک ہزار روپےنقد انعام دیا
حاجی محمد عارف صدر او پی ایل نے چوہدری ضیافت حسین اور راجہ لیاقت علی کے ہمراہ گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ نے کا دورہ کیا جس میں محکمہ تعلیم کا نعرہ:تعلیم سب کیلئے ؛آئیں دیکھیں ہم فروغ تعلیم کیلئے کس قدر کوشاں ہیں کا جائزہ لیا
دنیا کی دیگر اقوام کی طرح پاکستانیوں میں بھی بحثیت قوم جہاں بے شمار خوبیاں ہیں وہیں چند ایک ایسی کمزوریاں ہیں جن کی بدولت ہمیں کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ’’ تحقیق کا فقدان‘‘ انہی خامیوں میں سے ایک اہم ہے۔ ریسرچ یا تحقیق کا فقدان ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جب ہم من گھڑت اور سنی سنائی باتوں پر محض اس لئے یقین کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں تحقیق کی عادت نہیں۔ماضی میں ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہت تشویشناک ہے ان میں اساتذہ کی کمی ، عمارت کی بد حالی، نامناسب تعلیمی ماحول اور طالبعلموں کے لئے سہولتوں کی عدم دستیابی کا دور دورہ ہے معاشرے میں ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کی جانب سے سرکاری اداروں خصوصا تعلیمی اداروں کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھی سرکاری سکولوں کے حوالے سے ان موضوعات کی تشہیر کی جاتی ہے جس سے سرکاری تعلیمی اداروں کے بارے میں منفی رویہ قائم ہونے میں آسانی ہو لیکن ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہوتے ہیں اب تعمیری پہلووں سے صرف نظر کرنا اور منفی پہلووں کو اجاگر کرنا یقیناًناانصافی ہے تصویر کے دونوں کے رخ دیکھ کر اپنی رائے قائم کی جائے تو یہ زیادہ مفید ہو گا۔
سرکاری سکول کے ۷۳ فیصد اساتذہ نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ دوسری طرف نجی شعبہ تعلیم میں بی اے قابلیت رکھنے والے اساتذہ کی تعداد ۶۳ فیصد ہے۔ نجی شعبہ میں پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت کا بھی خاطر خواہ انتظام نہیں۔ ٹیوشن کا رجحان بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت نجی اداروں میں زیادہ ہے جس کی وجہ وہ سکول انتظامیہ ہے جو اپنے ہی بچوں کو سکول ٹائم کے بعد ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ گورنمنٹ سیکٹر کے بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں۔کثیر الجماعت معلمی کے حوالے سے بھی نجی شعبہ آگے ہے جس کی وجہ ان کے پاس کلاس رومز کی کمی ہے اس وجہ سے انہیں ایک ہی وقت میں ایک ہی کمرے میں ایک سے زائد کلاسوں کو بٹھا کر پڑھانا پڑتا ہے گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں میں بلڈنگ (کشادہ کمرے) مفت کتابیں و تعلیم، کھیل کا میدان اور تربیت یافتہ عملہ موجود جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی اکثریت میں یہ تمام سہولیات ناپید ہیں۔
چندعشرے پہلے گورنمنٹ کے سکولوں میں اجارہ داری قائم تھی، بچوں کی تعداد بھی کم تھی اور اساتذہ بھی پڑھانے سے جی چراتے تھے لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں تمام سرکاری سکول ٹیچرز کی ہر تین ماہ بعد ٹرینگ ہوتی ہے جس میں اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ کیاجاتا ہے۔ اب سرکاری سکولوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا تقرر کیا جا رہا ہے جن میں سے اکثریت یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل ہیں ان کی انڈکشن ٹریننگ پر بڑی تعداد میں رقم خرچ کی جاتی ہے اساتذہ کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بجٹ کے علاوہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے جس کی بدولت نوجوان طبقے میں اس شعبہ کو اختیار کرنے کا خاص جذبہ نظر آتا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام سخت کیا کا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ عملے کی بدولت معاشرے میں موجود اس اثر کو زائل کیا جا سکتا ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت نا گفتہ بہ ہونے کی وجہ سے ان میں پڑھائی نہیں ہوتی اور لوگ بھاری فیسیں ادا کر کے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ پنجاب کا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ صوبے میں تعلیمی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھالنے میں مصروف عمل ہے سکولوں میں آئی ٹی لیبزاور ای بکس کا اجراء اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اگرچہ حکومت نظام تعلیم اور ملک میں خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنے کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں بات کرنے کا مقصد خدانخواستہ نجی شعبہ کی تحقیر نہیں بلکہ سرکاری سکولوں میں پائے جانے والے مثبت پہلووں کے بارے میں عوام میں موجود ابہام کو دور کرنا ہے۔ لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ من گھڑت اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے سرکاری سکولوں کے بارے میں خود سے تحقیق کر لی جائے
کیونکہ اب وہاں کے حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں تعلیمی شعبہ میں حکومت اربوں روپے کے فنڈز لگا کر عوام کا سرکاری سکولوں سے اٹھا ہوا اعتماد بحال کروا کے چاہتی ہے کہ وہ سکولوں میں آئیں اور دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔
کہ حالیہ حکومت فروغ تعلیم کے لئے کس حد تک کوشاں ہیں ؟
لیکن بدقسمتی کہ ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔
گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کا دورہ
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں اور حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی مفت تعلیم کی سہولت سے فائدہ حاصل کریں۔ ان خیالات کا اظہار حاجی محمد عارف صدر او پی ایل نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھڈانہ میں محکمہ تعلیم کا نعرہ:تعلیم سب کیلئے ؛آئیں دیکھیں ہم فروغ تعلیم کیلئے کس قدر کوشاں ہیں کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ حاجی محمد عارف نے اپنے خطاب میں سکول ہیڈ ماسٹر جہانگیر افضل ہاشمی اور سٹاف کی انتھک محنت کو سراہا اور تعلیمی میدان میں سکول کی بہتر کارکردگی کی تعریف کی۔ معروف سماجی ،شخصیت نے تعلیم کے مقاصداور دورِ حاضر کے مسائل پر گفتگو کی ۔ ہیڈ ماسٹر جہانگیر افضل نے اپنے خطاب میں تعلیم ‘ کھیل اور ادبی میدان میں سکول کی کارکردگی بیان کی اور والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کرائیں۔ ہمارے پاس معیاری بلڈنگ، اچھا گراونڈ، لائبریری ،سائنس لیب ، کمپیوٹر لیب اور براڈ بینڈ کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں ۔ نرسری کے بچوں کے لئے کڈز روم‘ کھلونے اور جھولے لگائے گئے ہیں۔ پرائمری ‘ مڈل اور ہائی حصہ کے لئے الگ الگ سائنس میتھ ٹیچرز دستیاب ہیں ۔تقریب کے اختتام پر حاجی محمد عارف نے اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبا کو انعامات انعامات بھی دیئے ۔مفصل حسین شاہ ( میانی ڈھیری) ۔۔۔۔ جماعت نہم گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کو ایک ہزار روپےنقد انعام دیا
No comments:
Post a Comment