لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن انھوں نے کہ بہت سے لوگ منفی پراپیگنڈے کے
رد عمل میں گھروں سے نکلے اور انھوں نے صادق خان کو ووٹ ڈالے
لندن میں مقامی کونسلز اور میئر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد لیبر پارٹی کے پاکستانی نژاد صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے ہیں۔
شہر کی چودہ کونسلوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد صادق خان
کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ پر سبقت حاصل کی لیکن وہ مجموعی ووٹوں کے
50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے جس کی وجہ سے ووٹوں میں دوسری ترجیح کی گنتی
کی گئی۔
لندن کے میئر کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شہر میں بنائے گئے تین خصوصی مراکز میں جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے شروع ہوئی۔
مئیر کے لیے میدان میں کل 12 امیدوار ہیں جن میں سے اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان ہے۔
لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے اور ’گرین پارٹی‘ تیسرے نمبر پر رہی۔
لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے
جمعرات کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالے جانے کا تناسب 45 فیصد رہا جو سنہ
2012 میں ہونے والے انتخابات کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہے۔
لندن کی تمام کونسلز میں انتخابی نتائج میں سنہ 2012 کے مقابلے میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں سوائے مرٹن اور وانڈز ورتھ کے جہاں لیبر نے کنزرویٹو کو ہرا دیا۔
لندن کے میئر کو ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحولیات، ہاؤسنگ اور پلاننگ جیسے اہم شعبوں میں مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور لندن اسمبلی کے ارکان میئر کی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں۔
لندن شہر کی اسمبلی گیرٹر لندن اتھارٹی کے بجٹ کی منظوری میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ میئر کی پالیسیوں کو لندن اسمبلی مسترد بھی کر سکتی ہے اور مجوزہ بجٹ میں ترمیم کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کے لیے اس کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
شیفیلڈ میں خطاب کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کی اور انھیں شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کی جس سے لیبر پارٹی کو فائدہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے چلائی جانے والی ’زہریلی مہم‘ اور جس طرح صادق خان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور جو ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور جو زبان استعمال کی گئی اس کا انتخابات پر بہت اثر پڑا۔‘ پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے
لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن انھوں نے کہ بہت سے لوگ اس منفی پراپیگنڈے کے رد عمل میں گھروں سے نکلے اور انھوں نے صادق خان کو ووٹ ڈالے۔
ان انتخابات میں ووٹوں کی الیکٹرانک گنتی کی جا رہی ہے۔
لندن کے میئر کے انتخاب کے لیے رائے دہندگان سے ان کی پہلی اور دوسری ترجیح پوچھی گئی تھی۔ اس بیلٹ پیپر کے علاوہ رائے دہنگان کو دو اور بیلٹ پیپرز بھی دیے گئے تھے جن پر انھیں لندن اسمبلی اور اپنے علاقے سے اس اسمبلی کے لیے ان کے پسندیدہ امیدوار کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
لندن کا میئر ذاتی حیثیت میں برطانیہ کے سب سے بڑے سیاسی دفتر کا سربراہ ہو گا۔
لندن میں مقامی کونسلز اور میئر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد لیبر پارٹی کے پاکستانی نژاد صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے ہیں۔
شہر کی چودہ کونسلوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد صادق خان
کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ پر سبقت حاصل کی لیکن وہ مجموعی ووٹوں کے
50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے جس کی وجہ سے ووٹوں میں دوسری ترجیح کی گنتی
کی گئی۔لندن کے میئر کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شہر میں بنائے گئے تین خصوصی مراکز میں جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے شروع ہوئی۔
مئیر کے لیے میدان میں کل 12 امیدوار ہیں جن میں سے اصل مقابلہ لیبر پارٹی کے صادق خان اور کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ سمتھ کے درمیان ہے۔
لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے اور ’گرین پارٹی‘ تیسرے نمبر پر رہی۔
لیبر جماعت لندن اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس نے گیارہ کونسلوں میں سے نو میں کامیابی حاصل کی ہے
جمعرات کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالے جانے کا تناسب 45 فیصد رہا جو سنہ
2012 میں ہونے والے انتخابات کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہے۔لندن کی تمام کونسلز میں انتخابی نتائج میں سنہ 2012 کے مقابلے میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں سوائے مرٹن اور وانڈز ورتھ کے جہاں لیبر نے کنزرویٹو کو ہرا دیا۔
لندن کے میئر کو ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحولیات، ہاؤسنگ اور پلاننگ جیسے اہم شعبوں میں مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور لندن اسمبلی کے ارکان میئر کی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں۔
لندن شہر کی اسمبلی گیرٹر لندن اتھارٹی کے بجٹ کی منظوری میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ میئر کی پالیسیوں کو لندن اسمبلی مسترد بھی کر سکتی ہے اور مجوزہ بجٹ میں ترمیم کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کے لیے اس کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
شیفیلڈ میں خطاب کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کی اور انھیں شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کی جس سے لیبر پارٹی کو فائدہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے چلائی جانے والی ’زہریلی مہم‘ اور جس طرح صادق خان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور جو ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور جو زبان استعمال کی گئی اس کا انتخابات پر بہت اثر پڑا۔‘ پول کیے جانے والے کل ووٹوں میں سے 43 فیصد لیبر پارٹی کو حاصل ہوئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے حصہ میں 31 فیصد ووٹ آئے
لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن انھوں نے کہ بہت سے لوگ اس منفی پراپیگنڈے کے رد عمل میں گھروں سے نکلے اور انھوں نے صادق خان کو ووٹ ڈالے۔
ان انتخابات میں ووٹوں کی الیکٹرانک گنتی کی جا رہی ہے۔
لندن کے میئر کے انتخاب کے لیے رائے دہندگان سے ان کی پہلی اور دوسری ترجیح پوچھی گئی تھی۔ اس بیلٹ پیپر کے علاوہ رائے دہنگان کو دو اور بیلٹ پیپرز بھی دیے گئے تھے جن پر انھیں لندن اسمبلی اور اپنے علاقے سے اس اسمبلی کے لیے ان کے پسندیدہ امیدوار کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
لندن کا میئر ذاتی حیثیت میں برطانیہ کے سب سے بڑے سیاسی دفتر کا سربراہ ہو گا۔
No comments:
Post a Comment